ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سماج وادی پارٹی کی ’سائیکل‘ پر گھمسان، گیند الیکشن کمشنر کے پالے میں؛ ملائم سنگھ کی الیکشن کمشنرسے ملاقات، انتخابی نشان پردعویٰ

سماج وادی پارٹی کی ’سائیکل‘ پر گھمسان، گیند الیکشن کمشنر کے پالے میں؛ ملائم سنگھ کی الیکشن کمشنرسے ملاقات، انتخابی نشان پردعویٰ

Tue, 03 Jan 2017 03:52:06    S.O. News Service

لکھنؤ، 2جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) ایس پی کے انتخابی نشان ’سائیکل‘پر دعوے کو لے کر حریف خیموں کے الیکشن کمیشن کے پاس پہنچنے کے ساتھ ہی یادوکنبے کی جنگ آج دہلی پہنچ گئی۔اس درمیان ایس پی صدرملائم سنگھ یادونے 5 /جنوری کو بلایا گیا پارٹی اجلاس ملتوی کردیاہے۔ملائم نے کہاکہ’سائیکل‘ہماراانتخابی نشان ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اسمبلی انتخابات جیتنے پرتوجہ مرکوزکرنے کوکہا۔ریاست میں انتخابات کا اعلان کبھی بھی ہو سکتا ہے۔آئندہ 5 /جنوری کو لکھنؤ میں ہونے والے ایس پی اجلاس کو ملتوی کرنے والے ملائم نے کہاکہ کوئی بھی شخص مجھ پرالزام نہیں لگا سکتا کہ میں نے غلط کیا ہے، میں نے نہ تو کبھی بدعنوانی کی اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا،سائیکل ہمارا انتخابی نشان ہے۔اسی درمیان ملائم سنگھ نے دہلی میں الیکشن کمیشن کے سینئرحکام سے ملاقات کی۔اورانتخابی نشان ”سائیکل“پردعویٰ کیا۔وہیں ایس پی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کل کوشش کرنے والے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کے لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ پر پارٹی لیڈروں اور اراکین اسمبلی سے ملاقات کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ای سی کے سامنے انتخابی نشان کا معاملہ اٹھاتے وقت رام گوپال اکھلیش کی نمائندگی کر سکتے ہیں .۔اس درمیان ایس پی لیڈر شیوپال یادو نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ملائم اب بھی سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ہیں، شیو پال نے پارٹی اجلاس اچانک ملتوی کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن ذرائع کے مطابق،ملائم خیمے کو رام گوپال یادو کی طرف سے کل منعقد اجلاس میں کم لوگوں کے شریک ہونے کا خدشہ تھا، ملائم نے کل ہوئے کنونشن کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

قابل ذکرہے کہ ایس پی اس وقت دو خیموں میں تقسیم ہو گئی تھی جب اکھلیش کی قیادت والے خیمے نے کنونشن میں ملائم کو پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اکھلیش کو ان کی جگہ پر مقرر کیا تھا،  رام گوپال کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شیو پال کو پارٹی کی ریاستی اکائی کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور امر سنگھ کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا تھا جنہیں یادو کنبے میں فساد کی جڑ بتایا جا رہا ہے۔اس کے بعد ملائم سنگھ نے اجلاس کے کرتا دھرتا رام گوپال یادو کے ساتھ اس میں شرکت کرنے والے پارٹی نائب صدر کرنمئے نندا اور جنرل سکریٹری نریش اگروال کو 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا۔شیو پال اور امر اس بات کو یقینی بنانے کی حکمت عملی بنانے کے لیے آج صبح دہلی پہنچے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ’سائیکل‘انتخابی نشان ملائم کے پاس ہی رہے،ریاست میں انتخابات کا اعلان کبھی بھی ہو سکتی ہے۔امر سنگھ نے لندن سے واپس آنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہاکہ میں ملائم سنگھ یادو کے ساتھ تھا اور رہوں گا، میں ایک ’ہیرو‘تھا لیکن ان کے لیے میں اب کھلنایک بننے کو تیار ہوں۔اکھلیش خیمے کی طرف سے پارٹی سے نکالے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر امر نے کہا کہ وہ تبھی دکھی ہوں گے، جب ملائم ان کے خلاف کچھ کہیں گے۔امر نے کہاکہ ایک بار ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ امر سنگھ ہماری پارٹی میں نہیں لیکن دل میں ہیں۔اگر ملائم سنگھ یادو مجھے اپنے دل سے نکال دیتے ہیں تو یہ تکلیف دہ ہو گا، میرے لیے پارٹی اہم نہیں ہے۔انہوں نے کچھ لیڈروں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ میں نے ہاتھ جوڑ کر راجیہ سبھا میں سیٹ دینے کی درخواست کرنے والے دیگر لیڈروں کی طرح پارٹی سے کبھی راجیہ سبھاکی سیٹ نہیں مانگی۔اس درمیان شیو پال نے کہا کہ وہ ملائم کے ساتھ رہیں گے، شیو پال کو بھی اکھلیش خیمے نے سماج وادی پارٹی کی اترپردیش اکائی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔انہوں نے دہلی پہنچنے پر کہاکہ میں آخری سانس تک ملائم کے ساتھ رہوں گا۔امر اور شیو پال ملائم اور کچھ دوسرے لیڈروں کے ساتھ شام میں ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے کہ ’سائیکل‘انتخابی نشان ملائم سنگھ کے پاس ہی رہے اور نہ تو اس نشان پر روک لگ پائے اور نہ ہی اسے اکھلیش خیمے کو دیا جائے۔


Share: